مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کی لاپتہ افراد کی تلاش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ جنرل سید محمد باقر زادہ نے قطری حکام کی جانب سے ایرانی پائلٹوں کی اسیری کی تردید مسترد کرتے ہوئے ایران کی ماہرین پر مشتمل ٹیم کو قطر میں زمینی تحقیقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان پائلٹوں کی حالت کے بارے میں حقیقت واضح ہوسکے۔
جنرل باقرزاده نے ایرانی پائلٹوں کی اسیری نہ ہونے سے متعلق قطری حکام کی تردید کے جواب میں کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ماہر اور تجربہ کار اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم کئی ماہ سے قطر جانے اور زمینی سطح پر تحقیقات کرنے کی منتظر ہے، تاہم قطری حکام کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں ڈالنے اور معاملے کو ٹالنے کی وجہ سے اب تک ہمارے بہادر پائلٹوں کی وطن واپسی کی راہ ہموار نہیں ہو سکی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطری حکومت معاملے کی تردید کرنے اور حقیقت معلوم کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے اسلامی جمہوری ایران کی فضائیہ کی ماہرین اور حقیقت معلوم کرنے والی ٹیم کو قطر جانے کی اجازت دے۔
لاپتہ افراد کی تلاش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ نے تاکید کی کہ ہم اس معاملے کی فوری پیروی میں ہلال احمر کے کردار پر زور دیتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کویت کی حکومت بھی گرفتار کیے گئے چار ایرانی شہریوں کی حالت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ